یونیورسٹیوں میں نئے سال کا آغاز ہوتے ہی ویکسین شدہ طلباء کا متحدہ عرب امارات کے کیمپسز کا رخ

یونیورسٹیوں میں نئے سال کا آغاز ہوتے ہی ویکسین شدہ طلباء کا متحدہ عرب امارات کے کیمپسز کا رخ

  یونیورسٹیوں کا کہنا ہے کہ 18 ماہ کی کوویڈ19 بندشوں کے بعد ، زیادہ تر طلباء اس ماہ فییزکل کلاسز کے لیے واپس یونیورسٹی کیمپسز میں آ گئے ہیں۔

 

 ڈینز نے اپنے پرامید ہونے کے بارے میں بات کی اور بتایا کہ کس طرح ویکسینیشن کی شرح زیادہ ہے اور متحدہ عرب امارات کی 78 فیصد آبادی ویکسین کی دونوں خوراکیں لے چکی ہے جس کے باعث بیشتر طلباء اس دفعہ یونیورسٹی سمیسٹر میں فییزکل حاضری لگوائیں گے۔

 

 یونیورسٹیوں نے کہا ہے کہ ویکسینیشن سے طلباء اور عملے کو محفوظ طریقے سے کیمپس میں واپس آنے میں مدد ملی ہے۔

 

 ہیریوٹ واٹ یونیورسٹی نے کہا ہے کہ ان کو امید یے کہ تقریبا 90 فیصد طلباء اس ہفتے کیمپس میں فیزیکل کلاسز کے لئے واپس آ جائیں گے۔ قائم مقام ڈپٹی وائس پرنسپل تادگ او ڈونووان نے کہا ہے کہ اب ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے 90 فیصد طلباء اس سال کیمپس میں کلاسز لیں گے۔

 

 کچھ بین الاقوامی طلباء ایسے ہیں جو اب بھی سفری پابندیوں کی وجہ سے کیمپس میں کلاس نہیں لے سکیں گے۔ 

 

جب کورونا وائرس کا آغاز ہوا تھا تو یونیورسٹی نے ابتدا میں آن لائن کلاسز کا آغاز کیا تھا جو بعد مین ستمبر 2020 میں مخلوط سیکھنے کے ماڈل میں منتقل ہوگئی۔

 

اب جب کہ فییزکل کلاسز کا آغاز ہو گیا ہےتو متحدہ عرب امارات کی تمام یونیورسٹیوں کو عملے اور طلباء کو کورونا وائرس سے متعلقہ مخصوص پروٹوکول پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ مسٹر او ڈونووان نے بتایا کہ کوویڈ19 کے بعد فیزکل کلاسز کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے تمام تعلیمی اداروں کو مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ طلباء کی کیمپس میں واپسی کی تیاری کے دوران ، ایک بڑا چیلنج سینیٹائزیشن روسٹر بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر لیکچر کے بعد کلاس رومز کو سیناٹائز کیا جائے۔ 

 

مرڈوک یونیورسٹی میں تیسرے سال کا 20 سالہ طالب علم ، ایمانوئل رک المیڈا ، جس نے گزشتہ سال آن لائن کلاسوں میں شرکت کی وہ اب رواں ہفتے فیزکل کلاسز کے لیے پرجوش تھا۔ 

 

ایمانوئل رک المیڈا نے بتایا کہ ہمارے پاس پچھلے سال کوویڈ19 کی وجہ سے آن لائن کلاسز کے علاوہ کوئی آپزن موجود نا تھا۔ اب میں فیزیکل کلاسز کے لیے واپس آیا ہوں۔

 

 طالب علم نے فائزر ویکسین کی دونوں خوراکیں حاصل کی ہیں اور آن لائن کلاسز کو بورنگ قرار دیتے ہوئے اس نے کیمپس کی تعلیم کو ترجیح دی ہے۔ اس نے بتایا کہ کیمپس میں فیزیکل کلاسوں کے دوران آپ موضوع کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور سوالات پوچھ سکتے ہیں اور شکوک و شبہات کو دور کر سکتے ہیں۔

 

 متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کی ڈاکٹر نعیمہ ال دارمکی نے بتایا کہ طلباء کو محفوظ رکھنے کے لیے 35 سے زائد طلباء والی کلاسوں کو خود بخود آن لائن کلاسز میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری تشویش اس وقت ہوتی ہے جب طلباء اکٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی باقاعدہ رسک میٹنگز منعقد کر رہی ہے اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

 

عجمان یونیورسٹی میں اس سال فزیکل کلاسوں کے لیے کیمپس واپس آنے والے طلباء کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔

 

 پچھلے سال ، یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے 6 ہزار طلباء میں سے صرف 10 فیصد نے فیزیکل کلاسوں میں شرکت کی تھی جبکہ 20 فیصد طلباء اس مدت میں کیمپس میں تھے۔ عجمان یونیورسٹی کے تعلیمی امور کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عصالیہ نے بتایا کہ طلباء کے بغیر یونیورسٹی کا ایک اہم جز نہیں تھا جو کہ طلباء کی جسمانی موجودگی ہے۔ یہ یونیورسٹی کو زندگی بخشتی ہے۔ اس سال ، زیادہ تر سیشن کیمپس میں منعقد ہوں گے لیکن نظریاتی کلاسیں بنیادی طور پر آن لائن رہیں گی۔

 

 انہوں نے بتایا کہ ویکسینیشن نے طلباء کو کیمپس میں واپس لانے میں یقینی طور پر مدد کی ہے۔ کوئی بھی شخص کیمپس میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ ویکسین یا استثنیٰ حاصل نہ کر لے۔ 

 

یونیورسٹی نے طلباء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کوویڈ19 کی ویکسین حاصل کریں۔

 

 کینیڈین یونیورسٹی دبئی نے بھی ویکسین شدہ طلباء کی زیادہ تعداد کو فیزیکل کلاسز کے لئے آتے دیکھا یے۔ کینیڈین یونیورسٹی میں طلباء کے امور کے نائب صدر ڈاکٹر رامی الخطیب نے بتایا کہ جیسا کہ ہم وزارت تعلیم اور دیگر متعلقہ قومی حکام کی صحت اور حفاظت کے رہنما اصولوں پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں ، ہم کیمپس میں طلباء کی موجودگی میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ دیکھ رہے ہیں۔

 

 ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ داخلے کی مدت کے اختتام تک کم از کم 90 فیصد طلباء واپس کیمپس میں تعلیم حاصل کریں گے۔ یونیورسٹی آف برمنگھم دبئی 19 ستمبر کو دوبارہ کلاسز شروع کرے گی اور نئے کیمپس میں بڑی تعداد کو خوش آمدید کہنے کی منتظر ہے۔

 

 یونیورسٹی میں طلباء ایڈمیشنز کے سربراہ کرس ٹیلر نے کہا کہ ہم اس مدت میں کیمپس میں بڑی تعداد کی واپسی کے منتظر ہیں۔ ہمارے نئے کیمپس میں 2 ہزار سے زائد طلباء کی گنجائش ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ اچھی پوزیشن میں ہیں کہ سماجی فاصلہ اور دیگر تمام احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیا جائے۔


یہ مضمون شئیر کریں: